5 اشعار

میں ہی میں بکھرا ہوا ہوں راہ تا منزل تمام

Main hi main bikhra hua hoon rah ta manzil tamam

میں ہی میں بکھرا ہوا ہوں راہ تا منزل تمامخاکداں تا آسماں چھایا ہے مستقبل تمام

پی چکی کتنی ہی موجوں کا لہو ساحل کی ریتلاشیں ہی لاشیں نظر آئیں سر ساحل تمام

گھر کو دن بھر کی متاع رہ نوردی سونپ دیسعئ پیہم کا غبار شہر تھا حاصل تمام

دیکھنا سب نے اٹھا رکھی ہے کاندھوں پر صلیببھیس میں مقتول کے روپوش ہیں قاتل تمام

ماہتاب ابھرا بھی تو جانے کہاں ڈوبا کہ راتکر دیا موجوں نے چھلنی سینۂ ساحل تمام

— شہاب جعفری