8 اشعار

رتبۂ‌ درد کو جب اپنا ہنر پہنچے گا

Rutba-e-dard ko jab apna hunar pahuchega

رتبۂ‌ درد کو جب اپنا ہنر پہنچے گاہم نشیں ضبط سخن کا بھی اثر پہنچے گا

بے صدارات سے عاجز ہے مرا دست جنوںکوئی دن تا بہ گریبان سحر پہنچے گا

کھنچ کے رہ مجھ سے مگر ضبط کی تلقین نہ کراب مری آہ سے تجھ کو نہ ضرر پہنچے گا

باتوں باتوں میں سب احوال جدائی مت پوچھکچھ کہوں گا تو ترے دل پہ اثر پہنچے گا

رنج اٹھاتے ہیں مرے ضبط فغاں سے ہم سایےلے کے تم تک کوئی مرنے کی خبر پہنچے گا

میرے مرنے سے غم عشق نہ مر جائے گامجھ کو چھوڑے گا تو غم خوار کے گھر پہنچے گا

اپنے گیسو تو سنبھالو کہ کھلے جاتے ہیںورنہ الزام مرے شوق کے سر پہنچے گا

تم کو جینا ہے تو کچھ عیب بھی لازم ہیں شہابؔزندگی کو تو نہ فیضان ہنر پہنچے گا

— شہاب جعفری