8 اشعار

شام رکھتی ہے بہت درد سے بیتاب مجھے

Shaam rakhti hai bahut dard se betaab mujhe

شام رکھتی ہے بہت درد سے بیتاب مجھےلے کے چھپ جا کہیں اے آرزوئے خواب مجھے

اب میں اک موج شب تار ہوں ساحل ساحلراہ میں چھوڑ گیا ہے مرا مہتاب مجھے

اب تک اک شمع سیہ پوش ہوں صحرا صحراتجھ سے چھٹ کر نہ ملی رہ گزر خواب مجھے

ساحل‌ آب و سراب ایک ہے منزل منزلتشنگی کرتی ہے سیراب نہ غرقاب مجھے

میں بھی صحرا ہوں مجھے سنگ سمجھنے والواپنی آواز سے کرتے چلو سیراب مجھے

میں بھی دریا ہوں ہر اک سمت رواں ہوں کب سےمیرا ساحل بھی نہیں منزل پایاب مجھے

اب مجھے ڈھونڈ نہ آغوش گریزاں ہر سولے اڑی خاک بہا لے گیا سیلاب مجھے

شام پوچھے تو نہ کہنا کہ میں دنیا میں نہیںلے کے پھر آئے گا اس گھر میں مرا خواب مجھے

— شہاب جعفری