7 اشعار

قید امکاں سے تمنا تھی گمیں چھوٹ گئی

Qaid-e-imkaan se tamanna thi ghummein chhuT gayi

قید امکاں سے تمنا تھی گمیں چھوٹ گئیپاؤں ہم نے جب اٹھایا تو زمیں چھوٹ گئی

لیے جاتا ہے خلاؤں میں جمال شب و روزدن کہیں چھوٹ گیا رات کہیں چھوٹ گئی

زندگی کیا تھی میں اک موج کے پیچھے تھا رواںاور وہ موج کہ ساحل کے قریں چھوٹ گئی

بود و باش اپنی نہ پوچھو کہ اسی شہر میں ہمزندگی لائے تھے گھر سے سو یہیں چھوٹ گئی

دل سے دنیا تک اک ایسا ہی سفر تھا جس میںکہیں دل اور کہیں دنیائے حسیں چھوٹ گئی

صبح دم دل کے مکاں سے سبھی رشتے ٹوٹےدر و دیوار سے فریاد مکیں چھوٹ گئی

کیا غریب الوطنی سی ہے غریب الوطنیآسماں ساتھ چلا گھر کی زمیں چھوٹ گئی

— شہاب جعفری