9 اشعار

ضرب تیشہ کی صدا میں کیا اٹھا کر لے گئے

Zarb-e-tesha ki sada mein kya uTha kar le gaye

ضرب تیشہ کی صدا میں کیا اٹھا کر لے گئےٹوٹتے پتھر سے ہم صحرا اٹھا کر لے گئے

بے خودی کو جانتے کیا ہم خودی خوان جنوںقطرے کی تمہید میں دریا اٹھا کر لے گئے

پاؤں جب سمٹے تو رستے بھی ہوئے تکیہ نشیںبوریا جب تہہ کیا دنیا اٹھا کر لے گئے

ہر جگہ جاں کو یہی دھڑکا کہ لٹ جائیں نہ ہمہم تو ہر دھرتی سے گھر اپنا اٹھا کر لے گئے

اس سفر میں ساتھ کون آتا صدا تو سب کو دیزندگی کا بوجھ تھا تنہا اٹھا کر لے گئے

ہیں پر اتنے بھی نہیں شائستۂ تشنہ لبیہم سے گر شبنم چھنی دریا اٹھا کر لے گئے

سربلند اپنا لہو تھا سرنگوں قاتل کی تیغہم ہتھیلی پر جو سر اپنا اٹھا کر لے گئے

ہم تری آواز کے رسیا بہ درگاہ جنوںشعلۂ حرف و صدا لپکا اٹھا کر لے گئے

دشت در دشت اک صدائے بازگشت اپنی شہابؔسارے پتھر اپنا سناٹا اٹھا کر لے گئے

— شہاب جعفری