7 اشعار

سوئے شہر آئے اڑاتے پرچم صحرا کو ہم

Sooy-e-shehr aaye uRaate parcham-e-sehra ko hum

سوئے شہر آئے اڑاتے پرچم صحرا کو ہماے جنوں اب کے الٹ کے رکھ ہی دیں دنیا کو ہم

تھا کہیں ماضی میں تو اے حال اب آگے تیرا کاملے تو آئے تیری چوکھٹ تک ترے فردا کو ہم

کتنے دانا ہیں لگا کر آگ سارے شہر کوایک گنگا لے چلے جلتی ہوئی لنکا کو ہم

مضطرب ہیں سارے سناٹے کہ آوازیں بنیںرہبرو دابے ہیں اک پتھر تلے صحرا کو ہم

خاک کا ذرہ گہر کے مول تھا بازار میںجو کے دانے کے لئے روتے ہیں ان داتا کو ہم

پیاس کہہ کہہ کر پکاریں بیچ دریا میں کھڑےپانی پانی کہہ کے مانگیں ریت سے دریا کو ہم

دھوپ اگر ہوتی تو تن ڈھکنا کچھ آساں تھا شہابؔروشنی سے چھین لیتے پردۂ سایا کو ہم

— شہاب جعفری