8 اشعار

میں جو روتا ہوں تو کہتے ہو کہ ایسا نہ کرو

Main jo rota hoon to kahte ho ke aisa na karo

میں جو روتا ہوں تو کہتے ہو کہ ایسا نہ کرو

«میں جو روتا ہوں تو کہتے ہو کہ ایسا نہ کرو» شہزاد احمد کا کلام ہے، جسے شہزاد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «رخصت ہوا تو آنکھ ملا کر نہیں گیا شہزاد احمد» میں 11 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 2 سیکنڈ ہے۔

میں جو روتا ہوں تو کہتے ہو کہ ایسا نہ کروتم اگر میری جگہ ہو تو بھلا کیا نہ کرو

اب تو اے دل ہوس ساغر و مینا نہ کروچھوڑ بھی دو یہ تقاضا یہ تقاضا نہ کرو

دل پہ اے دوست قیامت سی گزر جاتی ہےتم نگاہ غلط انداز سے دیکھا نہ کرو

پھر بھی آنکھیں انہیں ہر بات بتا دیتی ہیںدل تو کہتا ہے کسی بات کا چرچا نہ کرو

اب مرا درد مری جان ہوا جاتا ہےاے مرے چارہ گرو اب مجھے اچھا نہ کرو

یہ سر بزم مری سمت اشارے کیسےمیں تماشا تو نہیں میرا تماشا نہ کرو

مل ہی جاتی ہے کبھی یاس میں تسکین مجھےاے امیدو مجھے ایسے میں تو چھیڑا نہ کرو

اس نے شہزادؔ تری بات کو ٹھکرا ہی دیامیں نہ کہتا تھا کہ اظہار تمنا نہ کرو

— شہزاد احمد

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں