4 اشعار

جل بھی چکے پروانے ہو بھی چکی رسوائی

Jal bhi chuke parwane ho bhi chuki ruswai

جل بھی چکے پروانے ہو بھی چکی رسوائی

«جل بھی چکے پروانے ہو بھی چکی رسوائی» شہزاد احمد کا کلام ہے، جسے ندیم بخاری نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «رخصت ہوا تو آنکھ ملا کر نہیں گیا شہزاد احمد» میں 11 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 28 سیکنڈ ہے۔

جل بھی چکے پروانے ہو بھی چکی رسوائیاب خاک اڑانے کو بیٹھے ہیں تماشائی

اب دل کو کسی کروٹ آرام نہیں ملتااک عمر کا رونا ہے دو دن کی شناسائی

اب وسعت عالم بھی کم ہے مری وحشت کوکیا مجھ کو ڈرائے گی اس دشت کی پہنائی

جی میں ہے کہ اس در سے اب ہم نہیں اٹھیں گےجس در پہ نہ جانے کی سو بار قسم کھائی

— شہزاد احمد

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں