10 اشعار

زہریلی تخلیق

Zehreeli Takhleeq

زہریلی تخلیق

«زہریلی تخلیق» شہزاد احمد کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «رخصت ہوا تو آنکھ ملا کر نہیں گیا شہزاد احمد» میں 11 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 27 سیکنڈ ہے۔

ایک پل میں ختم ہو سکتی ہے وسعت دہر کیچوٹیوں سے چوٹیوں تک راستہ

آگے خلااور خلا کی تیرگی میں دور سے آئی ہوئی کرنوں کے رنگوں کی نمود

آسماں کے پاؤں پر مہتاب و انجم کے سجوداور زمیں کی رونقوں کا وہم فکر رفت و بود

بن دیے کس نے یہ تار و پودکس کے ہاتھ میں آیا نظام کائنات

کس کے ذرے بن گئے دنیا ستارے آفتابکس نے آوارہ خیالی کو پلائی فکر شیریں کی شراب

کس نے یہ سب کچھ بنایااور خود تاریک پردوں میں کہیں بیٹھا رہا

کیا یہ سب پھیلاؤ میرے واسطے ہیںیا میں خود اس کی پرانی روح میں بیٹھا ہوا

گن رہا ہوں اس کے اشکوں کی قطارپونچھتا ہوں اس کے آنسو مانگتا ہوں اس سے بھیک

(چاہتا ہوں روح کی خاطر سکوں)وہ تو خود اس خیر و شر کے جال میں الجھا ہوا

درد سے بیتاب تخلیق اذیت سے نڈھالچیخ کر کہتا ہے ''مجھ کو مار ڈال''

— شہزاد احمد

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں