7 اشعار

ویسے تو اک دوسرے کی سب سنتے ہیں

Waise to ek doosre ki sab sunte hain

ویسے تو اک دوسرے کی سب سنتے ہیں

«ویسے تو اک دوسرے کی سب سنتے ہیں» شہزاد احمد کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «رخصت ہوا تو آنکھ ملا کر نہیں گیا شہزاد احمد» میں 11 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 54 سیکنڈ ہے۔

ویسے تو اک دوسرے کی سب سنتے ہیںجن کو سنانا چاہتا ہوں کب سنتے ہیں

اب بھی وہی دن رات ہیں لیکن فرق یہ ہےپہلے بولا کرتے تھے اب سنتے ہیں

شک اپنی ہی ذات پہ ہونے لگتا ہےاپنی باتیں دوسروں سے جب سنتے ہیں

محفل میں جن کو سننے کی تاب نہ تھیوہ باتیں تنہائی میں اب سنتے ہیں

جینا ہم کو ویسے بھی کب آتا تھابدل گئے ہیں جینے کے ڈھب سنتے ہیں

آنکھیں چھو کر دیکھتی ہیں آوازوں کوکان دہائی دیتے ہیں لب سنتے ہیں

سنتے ضرور ہیں دنیا والے بھی شہزادؔکہنے کی خواہش نہ رہے تب سنتے ہیں

— شہزاد احمد

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں