9 اشعار

یوں خاک کی مانند نہ راہوں پہ بکھر جا

Yun khak ki manind na raahon pe bikhar ja

یوں خاک کی مانند نہ راہوں پہ بکھر جا

«یوں خاک کی مانند نہ راہوں پہ بکھر جا» شہزاد احمد کا کلام ہے، جسے یادرفتگان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «رخصت ہوا تو آنکھ ملا کر نہیں گیا شہزاد احمد» میں 11 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 1 سیکنڈ ہے۔

یوں خاک کی مانند نہ راہوں پہ بکھر جاکرنوں کی طرح جھیل کے سینے میں اتر جا

مت بھول کہ اب بھی ہے تری گھات میں صیادسنتا ہے کوئی پاؤں کی آواز ٹھہر جا

مت دیکھ تمنا کی طرف آنکھ اٹھا کراندھوں کی طرح نور کے دریا سے گزر جا

منزل کی طلب اپنی طرف کھینچ رہی ہےاور رات مسافر سے یہ کہتی ہے کہ گھر جا

اتنا تو سمجھ کیا ہے تری راہ میں حائلآہو کی طرح اپنے ہی سائے سے نہ ڈر جا

شاید کہ کوئی برہنہ پا ہو ترے پیچھےجاتے ہوئے اس راہ کو کانٹوں سے نہ بھر جا

پتھر نہیں آنکھیں تو یہ آنسو ہیں بڑی چیزبھیگے ہوئے پھولوں کی طرح اور نکھر جا

یا دشت میں اس بزم کی رونق کو نہ کر یادیا شہر کی دیوار سے سر پھوڑ کے مر جا

اک عمر سے رویا ہوں نہ تڑپا ہوں میں شہزادؔاحساس کا بادل کبھی برسا ہے نہ گرجا

— شہزاد احمد

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں