مرے ہم نفس مرے ہم نوا مجھے دوست بن کے دغا نہ دے
کلام: شکیل بدیوانی
مرے ہم نفس مرے ہم نوا مجھے دوست بن کے دغا نہ دےمیں ہوں درد عشق سے جاں بہ لب مجھے زندگی کی دعا نہ دے
مرے داغ دل سے ہے روشنی اسی روشنی سے ہے زندگیمجھے ڈر ہے اے مرے چارہ گر یہ چراغ تو ہی بجھا نہ دے