5 اشعار

یاد میں تیری جاگ جاگ کے ہم رات بھر کروٹیں بدلتے ہیں

Yaad mein teri jaag jaag ke hum raat bhar karwatein badalte hain

یاد میں تیری جاگ جاگ کے ہم رات بھر کروٹیں بدلتے ہیں

«یاد میں تیری جاگ جاگ کے ہم رات بھر کروٹیں بدلتے ہیں» شکیل بدیوانی کا کلام ہے، جسے کریسنٹ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اے محبت تیرے انجام پہ رونا آیا (شکیل بدایونی)» میں 8 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 7 سیکنڈ ہے۔

یاد میں تیری جاگ جاگ کے ہم رات بھر کروٹیں بدلتے ہیںہر گھڑی دل میں تیری الفت کے دھیمے دھیمے چراغ جلتے ہیں

جب سے تو نے نگاہ پھیری ہے دن ہے سونا تو رات اندھیری ہےچاند بھی اب نظر نہیں آتا اب ستارے بھی کم نکلتے ہیں

لٹ گئی وہ بہار کی محفل چھٹ گئی ہم سے پیار کی منزلزندگی کی اداس راہوں میں تیری یادوں کے ساتھ چلتے ہیں

تجھ کو پا کر ہمیں بہار ملی تجھ سے چھٹ کر مگر یہ بات کھلیباغباں ہی چمن کے پھولوں کو اپنے پیروں سے خود مسلتے ہیں

کیا کہیں تجھ سے کیوں ہوئی دوری ہم سمجھتے ہیں اپنی مجبوریتجھ کو معلوم کیا کہ تیرے لیے دل کے غم آنسوؤں میں ڈھلتے ہیں

— شکیل بدیوانی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں