6 اشعار

مری زندگی پہ نہ مسکرا مجھے زندگی کا الم نہیں

Meri zindagi pe na muskura mujhe zindagi ka alam nahin

مری زندگی پہ نہ مسکرا مجھے زندگی کا الم نہیں

«مری زندگی پہ نہ مسکرا مجھے زندگی کا الم نہیں» شکیل بدیوانی کا کلام ہے، جسے نور مائیر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اے محبت تیرے انجام پہ رونا آیا (شکیل بدایونی)» میں 8 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 10 سیکنڈ ہے۔

مری زندگی پہ نہ مسکرا مجھے زندگی کا الم نہیںجسے تیرے غم سے ہو واسطہ وہ خزاں بہار سے کم نہیں

مرا کفر حاصل زہد ہے مرا زہد حاصل کفر ہےمری بندگی وہ ہے بندگی جو رہین دیر و حرم نہیں

مجھے راس آئیں خدا کرے یہی اشتباہ کی ساعتیںانہیں اعتبار وفا تو ہے مجھے اعتبار ستم نہیں

وہی کارواں وہی راستے وہی زندگی وہی مرحلےمگر اپنے اپنے مقام پر کبھی تم نہیں کبھی ہم نہیں

نہ وہ شان جبر شباب ہے نہ وہ رنگ قہر عتاب ہےدل بے قرار پہ ان دنوں ہے ستم یہی کہ ستم نہیں

نہ فنا مری نہ بقا مری مجھے اے شکیلؔ نہ ڈھونڈھئےمیں کسی کا حسن خیال ہوں مرا کچھ وجود و عدم نہیں

— شکیل بدیوانی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں