8 اشعار

آزادی

aazadi

گلا بیٹھ جانے کے ڈر سے کبھیایک انگور چکھا نہیں

برانڈ سگریٹ کا بدلہ نہیںسیخ پر جل گئے میرے حصے کے سارے کباب

پھر بھی سب سے بڑا خوف سچ ہو گیاخیر جو بھی ہوا

اب میں آزاد ہوںآج فروٹی پیوں گا

گلے کی سکائی کے بعدآج فروٹی پیوں گا

اب یہ وہماحتیاطیں یہ ڈر

ان کے سرجن کی بیماریاں

چھپ کے کاغذ پہ آئی نہیں ہیں ابھی

— شارق کیفی