10 اشعار

کھلونا موت بھی ہے

khilauna maut bhi hai

مرے جسم کے پینتروں سے پریشاں تھی وہمیں نے سمجھانا چاہا اسے

خدا جانتا ہےکہ رتی برابر مجھے اور جینے کی خواہش نہیں

سچ تو یہ ہےایسے مہمان سے منہ چھپانا

کہ جو صرف میرے لئے آسمانوں سے آیا ہوشرمندہ کرتا ہے مجھ کو

بھلا ایک انساں کے بس میں کہاں موت کو چھیڑنامیں تو ڈرتا ہوں تم سے

یہ کوئی اور ہے جو مرے سرد پیروں کو پھر گرم کر کےتمہیں چھیڑتا ہے

مرے گھر کے چکر لگانے پہ مجبور کرتا ہےمگر وہ سسکتی رہی

اپنے پیروں کے چھالوں کو روتی رہیاور میں حیرت زدہ سوچنے پر یہ مجبور تھا

کیا مری موت بھیمیرے مرنے کے دن

میری سانسوں کی گنتی کے بارے میں اتنی ہی انجان ہےجتنا میں

— شارق کیفی