7 اشعار

میرے حصے کی گالی

mere hisse ki gali

ہاں وہ گالی بھی مرے حصے کیمیری ہی طرح گھر سے نکلتی ہے پرانی سائیکل پر بیٹھ کر

اسے بھی یہ نہیں معلوم ہوتاکہ وہ کس منہ پہ تھوکی جائے گی آج

ادھر میں بھی نہا دھو کرنکل آتا ہوں باہر

ڈھونڈھنے وہ موڑ وہ محفلجہاں ٹکراؤں گا اس سے

کہیں یہ میری ذمے داریوں میں ہےکہ وہ حالات پیدا کر سکوں

جس میں کسی گالی سے میرے کان تک کا راستہ آسان ہو جائےاور یہ سب

اس طرح ہوتا ہے میرے ساتھکہ سوچوں تو عقل حیران ہو جائے

— شارق کیفی