11 اشعار

عبادت کا سچ

ibaadat ka sach

عبادت جان کربہت چکر لگائے اسپتالوں کے

بہت تیمارداری کی ہے بیماروں کی لیکنجنوں اب بجھ رہا ہے

میں اب تھکنے لگا ہوںتھکن اب اس قدر حاوی ہے مجھ پر

کہ وہ اسٹول میرے خواب میں آنے لگا ہےسہارا دے کے بٹھلاتا ہوں میں جس پر

مریضوں کو برابر ڈاکٹر کےیہ کام اب دوسروں پر چھوڑ دوں

وسیلہ بن کے خودثواب ان کو بھی تھوڑا لوٹنے دوں

جنہیں جنت میں میرے ساتھ ہونا چاہئےسہارا دے کے مجھ کو لائیں گے جو اسپتالوں میں

مری جانب سے بولیں گےمرا پرچا لگائیں گے

تسلی دے کے مجھ کو چین سے سگریٹ جلائیں گےاور اگر قسمت ہوئی اچھی تو ممکن ہے

وہ نازک سانولی سی نرسجس کو دیکھ کر میں اس عبادت کی طرف راغب ہوا تھا

ان کے ہاتھ آ جائے شاید

— شارق کیفی