7 اشعار

ہمیں تحفظ کا خبط، چھُپنے کی لت نہیں تھی

Hamein tehffuz ka khabt, chhupne ki lat nahin thi

ہمیں تحفظ کا خبط، چھُپنے کی لت نہیں تھی

«ہمیں تحفظ کا خبط، چھُپنے کی لت نہیں تھی» عمیر نجمی کا کلام ہے، جسے ملک افراسیاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «نکال لایا ہوں پنجرے سے ایک پرندہ (عمیر نجمی)» میں 1 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 3 سیکنڈ ہے۔

ہمیں تحفظ کا خبط، چھُپنے کی لت نہیں تھیفلک سے ربط استوار تھا، گھر کی چھت نہیں تھی

میں کاروبارِجنوں کو اب ترک کر چکا ہوںوہ کام اچھا تھا لیکن اُس میں بچت نہیں تھی

وہ شخص بھی شعر تھا کوئی سہلِ ممتنع میںنہیں کھلا گر چہ اس کی کوئی پرت نہیں تھی

بہت سا غم اس لئے منافع گھٹا کے بیچاکیا تھا جتنا برآمد، اتنی کھپت نہیں تھی

ہمارا چہرہ بہت سی آنکھوں کا پِیر ہے ابوہ آنکھیں جن کو ملال کی معرفت نہیں تھی

اک اور عشق آ گیا تھا دورانِ ہجر، ٹالاممانعت تو نہیں تھی، مجھ میں سکت نہیں تھی

بھلا ہو نم کا کہ اک جگہ پر بٹھا دیا ہےوگرنہ مجھ گرد کی زمیں سے جڑت نہیں تھی

— عمیر نجمی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں