8 اشعار

لیتے تھے لطف ہم اَدَبی اختلاف کا

Lete the lutf hum adabi ikhtilaaf ka

لیتے تھے لطف ہم اَدَبی اختلاف کا

«لیتے تھے لطف ہم اَدَبی اختلاف کا» عمیر نجمی کا کلام ہے، جسے سید جینٹلمین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «نکال لایا ہوں پنجرے سے ایک پرندہ (عمیر نجمی)» میں 1 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 6 سیکنڈ ہے۔

لیتے تھے لطف ہم اَدَبی اختلاف کاچیخوف اُسے پسند تھا اور مجھ کو کافکا

میں گھومتا ہوں، گھومتی کرسی پہ، دل کے گِردلیتا ہوں اجر، خانہِ رب کے طواف کا

مجھ کو سزا سنا دی گئی، دی بھی جا چکیتو اب بھی منتظر ہے مرے اعتراف کا؟

اُس دل سے ہو کے نور مڑا جب مری طرفسمجھا میں پہلی بار،اصول انعطاف کا

خلوت منائیں، دھیان لگائیں، دروں کو جائیںموقع بھی دے رہی ہے وبا، اعتکاف کا

سردی تھی یا اندھیرے کا ڈر تھا کہ رات، خوفکونا پکڑ کے بیٹھ گیا تھا لحاف کا

کندہ کیا ہے عشق نے اک زخم روح پرکیسا نیا طریقہ ہے آٹو گراف کا

یکتائی کیا ہے، یہ تجھے سمجھائے گا وہ شخصمرکز سمجھ چکا ہو جو کالے شگاف کا

— عمیر نجمی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں