9 اشعار

جہان بھر کی تمام آنکھیں نچوڑ کر جتنا نم بنے گا

Jahan bhar ki tamam aankhein nichod kar jitna nam bane ga

جہان بھر کی تمام آنکھیں نچوڑ کر جتنا نم بنے گا

«جہان بھر کی تمام آنکھیں نچوڑ کر جتنا نم بنے گا» عمیر نجمی کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «نکال لایا ہوں پنجرے سے ایک پرندہ (عمیر نجمی)» میں 1 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 26 سیکنڈ ہے۔

جہان بھر کی تمام آنکھیں نچوڑ کر جتنا نم بنے گایہ کل ملا کر بھی ہجر کی رات میرے گریہ سے کم بنے گا

میں دشت ہوں یہ مغالطہ ہے نہ شاعرانہ مبالغہ ہےمرے بدن پر کہیں قدم رکھ کے دیکھ نقش قدم بنے گا

ہمارا لاشہ بہاؤ ورنہ لحد مقدس مزار ہوگییہ سرخ کرتا جلاؤ ورنہ بغاوتوں کا علم بنے گا

تو کیوں نہ ہم پانچ سات دن تک مزید سوچیں بنانے سے قبلمری چھٹی حس بتا رہی ہے یہ رشتہ ٹوٹے گا غم بنے گا

مجھ ایسے لوگوں کا ٹیڑھ پن قدرتی ہے سو اعتراض کیساشدید نم خاک سے جو پیکر بنے گا یہ طے ہے خم بنے گا

سنا ہوا ہے جہاں میں بے کار کچھ نہیں ہے سو جی رہے ہیںبنا ہوا ہے یقیں کہ اس رائیگانی سے کچھ اہم بنے گا

کہ شاہزادے کی عادتیں دیکھ کر سبھی اس پر متفق ہیںیہ جوں ہی حاکم بنا محل کا وسیع رقبہ حرم بنے گا

میں ایک ترتیب سے لگاتا رہا ہوں اب تک سکوت اپناصدا کے وقفے نکال اس کو شروع سے سن ردھم بنے گا

سفید رومال جب کبوتر نہیں بنا تو وہ شعبدہ‌ بازپلٹنے والوں سے کہہ رہا تھا رکو خدا کی قسم بنے گا

— عمیر نجمی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں