7 اشعار

ملنے کا جب کہا تو ملا دکھ ہوا مجھے

Milne ka jab kaha to mila dukh hua mujhe

ملنے کا جب کہا تو ملا دکھ ہوا مجھے

«ملنے کا جب کہا تو ملا دکھ ہوا مجھے» عمیر نجمی کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «نکال لایا ہوں پنجرے سے ایک پرندہ (عمیر نجمی)» میں 1 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 52 سیکنڈ ہے۔

ملنے کا جب کہا تو ملا دکھ ہوا مجھےمیں نے بھی مل کے منہ پہ کہا دکھ ہوا مجھے

میں چاہتا تھا مجھ سے بچھڑ کر وہ خوش رہےلیکن وہ خوش ہوا تو بڑا دکھ ہوا مجھے

سسی کی داستان سنی تھی گذشتہ شبمیرے بلوچ دوست ادا دکھ ہوا مجھے

اس کے دئے دکھوں پہ الگ غم زدہ تھا میںاور انتقام لے کے جدا دکھ ہوا مجھے

ہر تازہ دکھ پہ دوست کا پرسہ گھسا پٹابس یار جو خدا کی رضا دکھ ہوا مجھے

چہرہ تأثرات سے عاری ہے اس کو چھوڑمیرا یقین کر بہ خدا دکھ ہوا مجھے

تب منکشف ہوا کہ مجھے اس سے عشق ہےجب اس کے دکھ پہ اس سے سوا دکھ ہوا مجھے

— عمیر نجمی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں