5 اشعار

جنون میں کر دیا تھا کب کچھ نہیں پتہ تھا

Junoon mein kar diya tha kab kuchh nahin pata tha

جنون میں کر دیا تھا کب کچھ نہیں پتہ تھا

«جنون میں کر دیا تھا کب کچھ نہیں پتہ تھا» عمیر نجمی کا کلام ہے، جسے حماد ابراہیم نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «نکال لایا ہوں پنجرے سے ایک پرندہ (عمیر نجمی)» میں 1 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 35 سیکنڈ ہے۔

جنون میں کر دیا تھا کب کچھ نہیں پتہ تھامیں عشق میں مبتلا تھا تب کچھ نہیں پتہ تھا

یہ ڈھونڈھتے ہو جو اب جنوں سے فرار کی راہتم اس طرف آئے کیوں تھے جب کچھ نہیں پتہ تھا

سمجھ نہیں آ رہی تھی روؤں پھروں کہ سوؤںتھی ہجر کی پہلی پہلی شب کچھ نہیں پتہ تھا

مجھے بس اتنا پتہ تھا افسردگی بہت ہےنتیجہ دورانیہ سبب کچھ نہیں پتہ تھا

میں چومتا تھا وہ ہاتھ دیوانہ وار نجمیؔوہ خبط تھا عشق یا ادب کچھ نہیں پتہ تھا

— عمیر نجمی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں