6 اشعار

آہ شب نالۂ سحر لے کر

Aah shab nalah sehar le kar

آہ شب نالۂ سحر لے کرنکلے ہم توشۂ سفر لے کر

شغل ہے نالہ کچھ مراد نہیںکیا کروں اے فلک اثر لے کر

تیری محفل کا یار کیا کہناہم بھی نکلے ہیں چشم تر لے کر

آپ میں نے دیا دل اس بت کوجھک گئی شاخ خود ثمر لے کر

تھا قفس کا خیال دامن گیراڑ سکے ہم نہ بال و پر لے کر

وحشتؔ اس بزم میں رہے تھے راتصبح نکلے ہیں درد سر لے کر

— وحشت رضا علی