6 اشعار

آزاد اس سے ہیں کہ بیاباں ہی کیوں نہ ہو

Aazad is se hain ke bayaban hi kyon na ho

آزاد اس سے ہیں کہ بیاباں ہی کیوں نہ ہوپھاڑیں گے جیب گوشۂ زنداں ہی کیوں نہ ہو

ہو شغل کوئی جی کے بہلنے کے واسطےراحت فزا ہے نالہ و فغاں ہی کیوں نہ ہو

سودائے زلف یار سے باز آئیں گے نہ ہممجموعۂ حواس پریشاں ہی کیوں نہ ہو

احسان تیر یار ادا ہو سکے گا کیاجان اپنی نذر لذت پیکاں ہی کیوں نہ ہو

جیتے رہیں گے وعدۂ صبر آزما پہ ہمعمر اپنی مثل وقت گریزاں ہی کیوں نہ ہو

وحشتؔ رکیں نہ ہاتھ سر حشر دیکھنااس فتنہ خو کا گوشۂ داماں ہی کیوں نہ ہو

— وحشت رضا علی