7 اشعار

شرمندہ کیا جوہر بالغ نظری نے

Sharminda kiya jauhar-e-baligh-nazri ne

شرمندہ کیا جوہر بالغ نظری نےاس جنس کو بازار میں پوچھا نہ کسی نے

صد شکر کسی کا نہیں محتاج کرم میںاحسان کیا ہے تری بیداد گری نے

محتاج تھی آئینے کی تصویر سی صورتتصویر بنایا مجھے محفل میں کسی نے

گل ہنستے ہیں غنچے بھی ہیں لبریز تبسمکیا ان سے کہا جا کے نسیم سحری نے

مایوس نہ کر دے کہیں ان کی نگہ گرمامید دلائی ہے مجھے سادہ دلی نے

محنت ہی پہ موقوف ہے آسائش گیتیکھوئی مری راحت مری راحت طلبی نے

وحشتؔ میں نگاہوں کے تجسس سے ہوں آزاداحسان کیا مجھ پہ مری بے ہنری نے

— وحشت رضا علی