7 اشعار

لبریز حقیقت گو افسانۂ موسیٰ ہے

Labrez-e-haqeeqat go afsana-e-Moosa hai

لبریز حقیقت گو افسانۂ موسیٰ ہےاے حسن حجاب آرا کس نے تجھے دیکھا ہے

محفل سی سجائی ہے دیدار کی حسرت نےہر چند ترا جلوہ محبوب تماشا ہے

مٹتا ہے کبھی دل سے نقش اس کی محبت کاناکام تمنا بھی مجبور تمنا ہے

جذبات کی دنیا میں برپا ہے قیامت سیاس حال میں رو پوشی کیا آپ کو زیبا ہے

ساقی تری محفل کو رنگین کیا جس نےوہ خون ہے تقوے کا یا جلوۂ مینا ہے

اک شیوہ تغافل ہے اک عشوہ تجاہل ہےغصہ ہے بجا تیرا شکوہ مرا بے جا ہے

یہ بے دلی اچھی ہے دیوانہ نہ بن وحشتؔانجام تمنا کا حسرت کے سوا کیا ہے

— وحشت رضا علی