6 اشعار

دیکھنا وہ گریۂ حسرت مآل آ ہی گیا

Dekhna wo girya-e-hasrat-maal aa hi gaya

دیکھنا وہ گریۂ حسرت مآل آ ہی گیابیکسی میں کوئی تو پرسان حال آ ہی گیا

جرأت عرض تمنا کا سبب وہ خود ہوئےمہرباں دیکھا انہیں لب پر سوال آ ہی گیا

دل کو ہم کب تک بچائے رکھتے ہر آسیب سےٹھیس آخر لگ گئی شیشے میں بال آ ہی گیا

بے وفائی سے وفا کا دیتے وہ کب تک جوابدل ہی تو ہے رفتہ رفتہ انفعال آ ہی گیا

خود فراموشی کی لذت نامکمل رہ گئیباوجود بے خودی تیرا خیال آ ہی گیا

ایک مدت سے نہیں ملتا تھا وحشتؔ کا پتالے ترے کوچے میں وہ آشفتہ حال آ ہی گیا

— وحشت رضا علی