6 اشعار

سنگ طفلاں فدائے سر نہ ہوا

Sang-e-tiflaan fida-e-sar na hua

سنگ طفلاں فدائے سر نہ ہواآج اس کوچے میں گزر نہ ہوا

ہم بھی تھے جوہر گراں مایہپر کوئی صاحب نظر نہ ہوا

امن عالم میں کیوں نہیں یا رباس کے قابل مگر بشر نہ ہوا

بے کسی پردہ دار درد ہوئیخیر گزری کہ اپنا گھر نہ ہوا

قدردانی کی کیفیت معلومعیب کیا ہے اگر ہنر نہ ہوا

سر جھکائے جو آتے ہو وحشتؔمگر اس بزم میں گزر نہ ہوا

— وحشت رضا علی