8 اشعار

زمیں روئی ہمارے حال پر اور آسماں رویا

Zameen royi hamare haal par aur aasman roya

زمیں روئی ہمارے حال پر اور آسماں رویاہماری بیکسی کو دیکھ کر سارا جہاں رویا

میں جب نکلا چمن سے شبنم آسا گلستاں رویااداسی چھا گئی ایسی خود آخر باغباں رویا

نہ آیا رحم کچھ بھی آہ دل میں اس ستم گر کےہماری جبہہ سائی کے اثر سے آستاں رویا

ہر اک عضو بدن ماتم کناں ہے دل کے جانے سےہوا یوسف جو گم تو کارواں کا کارواں رویا

خلل افگن تری بزم طرب میں کون ہو ظالمہوا کیا گر ترے کوچے میں کوئی تفتۂ جاں رویا

مرے آنسو تری بیداد کا پردہ نہ کھولیں گےعبث یہ بد گمانی ہے میں کب رویا کہاں رویا

عدو خوش ہوں تو ہوں اے بے مروت تیری محفل میںمرا تو حال یہ ہے جب کبھی آیا یہاں رویا

جفائے دشمناں اور بے وفائی ہائے یاراں سےبہت غم دیدہ ہو کر وحشتؔ آزردہ جاں رویا

— وحشت رضا علی