7 اشعار

ہوا ظاہر خط روئے نگار آہستہ آہستہ

Hauwa zahir khat-e-roo-e-nigaar aahista aahista

ہوا ظاہر خط روئے نگار آہستہ آہستہ

«ہوا ظاہر خط روئے نگار آہستہ آہستہ» ولی محمد ولی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 2 سیکنڈ ہے۔

ہوا ظاہر خط روئے نگار آہستہ آہستہکہ جیوں گلشن میں آتی ہے بہار آہستہ آہستہ

کیا ہوں رفتہ رفتہ رام اس کی چشم وحشی کوںکہ جیوں آہو کوں کرتے ہیں شکار آہستہ آہستہ

جو اپنے تن کوں مثل جوئبار اول کیا پانیہوا اس سرو قد سوں ہم کنار آہستہ آہستہ

برنگ قطرۂ سیماب میرے دل کی جنبش سوںہوا ہے دل صنم کا بے قرار آہستہ آہستہ

اسے کہنا بجا ہے عشق کے گل زار کا بلبلجو گل رویاں میں پایا اعتبار آہستہ آہستہ

مرا دل اشک ہو پہنچا ہے کوچے میں سریجن کےگیا کعبے میں یہ کشتی سوار آہستہ آہستہ

ولیؔ مت حاسداں کی بات سوں دل کوں مکدر کرکہ آخر دل سوں جاوے گا غبار آہستہ آہستہ

— ولی محمد ولی