8 اشعار

مت غصہ کے شعلے سوں جلتے کوں جلاتی جا

Mat ghussa ke shole sooñ jalte kooñ jalati ja

مت غصہ کے شعلے سوں جلتے کوں جلاتی جا

«مت غصہ کے شعلے سوں جلتے کوں جلاتی جا» ولی محمد ولی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 10 سیکنڈ ہے۔

مت غصہ کے شعلے سوں جلتے کوں جلاتی جاٹک مہر کے پانی سوں تو آگ بجھاتی جا

تجھ چال کی قیمت سوں دل نیں ہے مرا واقفاے مان بھری چنچل ٹک بھاؤ بتاتی جا

اس رات اندھاری میں مت بھول پڑوں تجھ سوںٹک پاؤں کے جھانجھر کی جھنکار سناتی جا

مجھ دل کے کبوتر کوں باندھا ہے تری لٹ نےیہ کام دھرم کا ہے ٹک اس کو چھڑاتی جا

تجھ مکھ کی پرستش میں گئی عمر مری ساریاے بت کی پجن‌ ہاری ٹک اس کو پجاتی جا

تجھ عشق میں جل جل کر سب تن کوں کیا کاجلیہ روشنی افزا ہے انکھیا کو لگاتی جا

تجھ نیہ میں دل جل جل جوگی کی لیا صورتیک بار اسے موہن چھاتی سوں لگاتی جا

تجھ گھر کی طرف سندر آتا ہے ولیؔ دائممشتاق درس کا ہے ٹک درس دکھاتی جا

— ولی محمد ولی