6 اشعار

چاند کا خواب اجالوں کی نظر لگتا ہے

Chand ka khwab ujalon ki nazar lagta hai

چاند کا خواب اجالوں کی نظر لگتا ہے

«چاند کا خواب اجالوں کی نظر لگتا ہے» وسیم بریلوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 55 سیکنڈ ہے۔

چاند کا خواب اجالوں کی نظر لگتا ہےتو جدھر ہو کے گزر جائے خبر لگتا ہے

اس کی یادوں نے اگا رکھے ہیں سورج اتنےشام کا وقت بھی آئے تو سحر لگتا ہے

ایک منظر پہ ٹھہرنے نہیں دیتی فطرتعمر بھر آنکھ کی قسمت میں سفر لگتا ہے

میں نظر بھر کے ترے جسم کو جب دیکھتا ہوںپہلی بارش میں نہایا سا شجر لگتا ہے

بے سہارا تھا بہت پیار کوئی پوچھتا کیاتو نے کاندھے پہ جگہ دی ہے تو سر لگتا ہے

تیری قربت کے یہ لمحے اسے راس آئیں کیاصبح ہونے کا جسے شام سے ڈر لگتا ہے

— وسیم بریلوی