8 اشعار

دور سے ہی بس دریا دریا لگتا ہے

Dur se hi bas darya darya lagta hai

دور سے ہی بس دریا دریا لگتا ہے

«دور سے ہی بس دریا دریا لگتا ہے» وسیم بریلوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 6 منٹ 50 سیکنڈ ہے۔

دور سے ہی بس دریا دریا لگتا ہےڈوب کے دیکھو کتنا پیاسا لگتا ہے

تنہا ہو تو گھبرایا سا لگتا ہےبھیڑ میں اس کو دیکھ کے اچھا لگتا ہے

آج یہ ہے کل اور یہاں ہوگا کوئیسوچو تو سب کھیل تماشا لگتا ہے

میں ہی نہ مانوں میرے بکھرنے میں ورنہدنیا بھر کو ہاتھ تمہارا لگتا ہے

ذہن سے کاغذ پر تصویر اترتے ہیایک مصور کتنا اکیلا لگتا ہے

پیار کے اس نشہ کو کوئی کیا سمجھےٹھوکر میں جب سارا زمانہ لگتا ہے

بھیڑ میں رہ کر اپنا بھی کب رہ پاتاچاند اکیلا ہے تو سب کا لگتا ہے

شاخ پہ بیٹھی بھولی بھالی اک چڑیاکیا جانے اس پر بھی نشانہ لگتا ہے

— وسیم بریلوی