4 اشعار

حادثوں کی زد پہ ہیں تو مسکرانا چھوڑ دیں

Hadson ki zad pe hain to muskurana chhod dein

حادثوں کی زد پہ ہیں تو مسکرانا چھوڑ دیں

«حادثوں کی زد پہ ہیں تو مسکرانا چھوڑ دیں» وسیم بریلوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 30 سیکنڈ ہے۔

حادثوں کی زد پہ ہیں تو مسکرانا چھوڑ دیںزلزلوں کے خوف سے کیا گھر بنانا چھوڑ دیں

تم نے میرے گھر نہ آنے کی قسم کھائی تو ہےآنسوؤں سے بھی کہو آنکھوں میں آنا چھوڑ دیں

پیار کے دشمن کبھی تو پیار سے کہہ کے تو دیکھایک تیرا در ہی کیا ہم تو زمانہ چھوڑ دیں

گھونسلے ویران ہیں اب وہ پرندے ہی کہاںاک بسیرے کے لئے جو آب و دانہ چھوڑ دیں

— وسیم بریلوی