6 اشعار

دکھ اپنا اگر ہم کو بتانا نہیں آتا

Dukh apna agar hum ko batana nahin aata

دکھ اپنا اگر ہم کو بتانا نہیں آتا

«دکھ اپنا اگر ہم کو بتانا نہیں آتا» وسیم بریلوی کا کلام ہے، جسے کریسنٹ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس « تیری مرضی کے مطابق نظر آئیں کیسے وسیم بریلوی» میں 10 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 46 سیکنڈ ہے۔

دکھ اپنا اگر ہم کو بتانا نہیں آتاتم کو بھی تو اندازہ لگانا نہیں آتا

پہنچا ہے بزرگوں کے بیانوں سے جو ہم تککیا بات ہوئی کیوں وہ زمانہ نہیں آتا

میں بھی اسے کھونے کا ہنر سیکھ نہ پایااس کو بھی مجھے چھوڑ کے جانا نہیں آتا

اس چھوٹے زمانے کے بڑے کیسے بنوگےلوگوں کو جب آپس میں لڑانا نہیں آتا

ڈھونڈھے ہے تو پلکوں پہ چمکنے کے بہانےآنسو کو مری آنکھ میں آنا نہیں آتا

تاریخ کی آنکھوں میں دھواں ہو گئے خود ہیتم کو تو کوئی گھر بھی جلانا نہیں آتا

— وسیم بریلوی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں