6 اشعار

ہمارا عزم سفر کب کدھر کا ہو جائے

Hamara azm-e-safar kab kidhar ka ho jaaye

ہمارا عزم سفر کب کدھر کا ہو جائے

«ہمارا عزم سفر کب کدھر کا ہو جائے» وسیم بریلوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 47 سیکنڈ ہے۔

ہمارا عزم سفر کب کدھر کا ہو جائےیہ وہ نہیں جو کسی رہ گزر کا ہو جائے

اسی کو جینے کا حق ہے جو اس زمانے میںادھر کا لگتا رہے اور ادھر کا ہو جائے

کھلی ہواؤں میں اڑنا تو اس کی فطرت ہےپرندہ کیوں کسی شاخ شجر کا ہو جائے

میں لاکھ چاہوں مگر ہو تو یہ نہیں سکتاکہ تیرا چہرا مری ہی نظر کا ہو جائے

مرا نہ ہونے سے کیا فرق اس کو پڑنا ہےپتہ چلے جو کسی کم نظر کا ہو جائے

وسیمؔ صبح کی تنہائی سفر سوچومشاعرہ تو چلو رات بھر کا ہو جائے

— وسیم بریلوی