8 اشعار

خواب نہیں دیکھا ہے

Khwab nahin dekha hai

خواب نہیں دیکھا ہے

«خواب نہیں دیکھا ہے» وسیم بریلوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 52 سیکنڈ ہے۔

میں نے مدت سے کوئی خواب نہیں دیکھا ہےرات کھلنے کا گلابوں سے مہک آنے کا

اوس کی بوندوں میں سورج کے سما جانے کاچاند سی مٹی کے ذروں سے صدا آنے کا

شہر سے دور کسی گاؤں میں رہ جانے کاکھیت کھلیانوں میں باغوں میں کہیں گانے کا

صبح گھر چھوڑنے کا دیر سے گھر آنے کابہتے جھرنوں کی کھنکتی ہوئی آوازوں کا

چہچہاتی ہوئی چڑیوں سے لدی شاخوں کانرگسی آنکھوں میں ہنستی ہوئی نادانی کا

مسکراتے ہوئے چہرے کی غزل خوانی کاتیرا ہو جانے ترے پیار میں کھو جانے کا

تیرا کہلانے کا تیرا ہی نظر آنے کامیں نے مدت سے کوئی خواب نہیں دیکھا ہے

ہاتھ رکھ دے مری آنکھوں پہ کہ نیند آ جائے

— وسیم بریلوی