13 اشعار

دیوانے کی جنت

Deewane ki Jannat

دیوانے کی جنت

«دیوانے کی جنت» وسیم بریلوی کا کلام ہے، جسے نور مائیر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس « تیری مرضی کے مطابق نظر آئیں کیسے وسیم بریلوی» میں 10 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 36 سیکنڈ ہے۔

میرا یہ خواب کہ تم میرے قریب آئی ہواپنے سائے سے جھجکتی ہوئی گھبراتی ہوئی

اپنے احساس کی تحریک پہ شرماتی ہوئیاپنے قدموں کی بھی آواز سے کتراتی ہوئی

اپنی سانسوں کے مہکتے ہوئے انداز لئےاپنی خاموشی میں گہنائے ہوئے راز لئے

اپنے ہونٹوں پہ اک انجام کا آغاز لئےدل کی دھڑکن کو بہت روکتی سمجھاتی ہوئی

اپنی پائل کی غزل خوانی پہ جھلاتی ہوئینرم شانوں پہ جوانی کا نیا بار لئے

شوخ آنکھوں میں حجابات سے انکار لئےتیز نبضوں میں ملاقات کے آثار لئے

کالے بالوں سے بکھرتی ہوئی چمپا کی مہکسرخ عارض پہ دمکتے ہوئے شالوں کی چمک

نیچی نظروں میں سمائی ہوئی خوددار جھجکنقرئی جسم پہ وہ چاند کی کرنوں کی پھوار

چاندنی رات میں بجھتا ہوا پلکوں کا ستارفرط جذبات سے مہکی ہوئی سانسوں کی قطار

دور ماضی کی بد انجام روایات لئےنیچی نظریں وہی احساس ملاقات لئے

وہی ماحول وہی تاروں بھری رات لئےآج تم آئی ہو دہراتی ہوئی ماضی کو

میرا یہ خواب کہ تم میرے قریب آئی ہوکاش اک خواب رہے تلخ حقیقت نہ بنے

یہ ملاقات بھی دیوانے کی جنت نہ بنے

— وسیم بریلوی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں