6 اشعار

ملی ہواؤں میں اڑنے کی وہ سزا یارو

Mili hawaon mein uṛne ki woh saza yāro

ملی ہواؤں میں اڑنے کی وہ سزا یارو

«ملی ہواؤں میں اڑنے کی وہ سزا یارو» وسیم بریلوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 52 سیکنڈ ہے۔

ملی ہواؤں میں اڑنے کی وہ سزا یاروکہ میں زمین کے رشتوں سے کٹ گیا یارو

وہ بے خیال مسافر میں راستہ یاروکہاں تھا بس میں مرے اس کو روکنا یارو

مرے قلم پہ زمانے کی گرد ایسی تھیکہ اپنے بارے میں کچھ بھی نہ لکھ سکا یارو

تمام شہر ہی جس کی تلاش میں گم تھامیں اس کے گھر کا پتہ کس سے پوچھتا یارو

جو بے شمار دلوں کی نظر میں رہتا تھاوہ اپنے بچوں کو اک گھر نہ دے سکا یارو

جناب میرؔ کی خود غرضیوں کے صدقے میںمیاں وسیمؔ کے کہنے کو کیا بچا یارو

— وسیم بریلوی