5 اشعار

سفر پہ آج وہی کشتیاں نکلتی ہیں

Safar pe aaj wahi kashtiyan nikalti hain

سفر پہ آج وہی کشتیاں نکلتی ہیں

«سفر پہ آج وہی کشتیاں نکلتی ہیں» وسیم بریلوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 41 سیکنڈ ہے۔

سفر پہ آج وہی کشتیاں نکلتی ہیںجنہیں خبر ہے ہوائیں بھی تیز چلتی ہیں

مری حیات سے شاید وہ موڑ چھوٹ گئےبغیر سمتوں کے راہیں جہاں نکلتی ہیں

ہمارے بارے میں لکھنا تو بس یہی لکھناکہاں کی شمعیں ہیں کن محفلوں میں جلتی ہیں

بہت قریب ہوئے جا رہے ہو سوچو توکہ اتنی قربتیں جسموں سے کب سنبھلتی ہیں

وسیمؔ آؤ ان آنکھوں کو غور سے دیکھویہی تو ہیں جو مرے فیصلے بدلتی ہیں

— وسیم بریلوی