7 اشعار

مجھے تو قطرہ ہی ہونا بہت ستاتا ہے

Mujhe to qatra hi hona bahut satata hai

مجھے تو قطرہ ہی ہونا بہت ستاتا ہے

«مجھے تو قطرہ ہی ہونا بہت ستاتا ہے» وسیم بریلوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 50 سیکنڈ ہے۔

مجھے تو قطرہ ہی ہونا بہت ستاتا ہےاسی لیے تو سمندر پہ رحم آتا ہے

وہ اس طرح بھی مری اہمیت گھٹاتا ہےکہ مجھ سے ملنے میں شرطیں بہت لگاتا ہے

بچھڑتے وقت کسی آنکھ میں جو آتا ہےتمام عمر وہ آنسو بہت رلاتا ہے

کہاں پہنچ گئی دنیا اسے پتہ ہی نہیںجو اب بھی ماضی کے قصے سنائے جاتا ہے

اٹھائے جائیں جہاں ہاتھ ایسے جلسے میںوہی برا جو کوئی مسئلہ اٹھاتا ہے

نہ کوئی عہدہ نہ ڈگری نہ نام کی تختیمیں رہ رہا ہوں یہاں میرا گھر بتاتا ہے

سمجھ رہا ہو کہیں خود کو میری کمزوریتو اس سے کہہ دو مجھے بھولنا بھی آتا ہے

— وسیم بریلوی