7 اشعار

محبت نا سمجھ ہوتی ہے سمجھانا ضروری ہے

Mohabbat na-samajh hoti hai samjhana zaroori hai

محبت نا سمجھ ہوتی ہے سمجھانا ضروری ہے

«محبت نا سمجھ ہوتی ہے سمجھانا ضروری ہے» وسیم بریلوی کا کلام ہے، جسے ایم سعید نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس « تیری مرضی کے مطابق نظر آئیں کیسے وسیم بریلوی» میں 10 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 53 سیکنڈ ہے۔ یہ کلام سحرِ بیاں کی محفلوں میں 2 مرتبہ پیش کیا جا چکا ہے۔

محبت نا سمجھ ہوتی ہے سمجھانا ضروری ہےجو دل میں ہے اسے آنکھوں سے کہلانا ضروری ہے

اصولوں پر جہاں آنچ آئے ٹکرانا ضروری ہےجو زندہ ہو تو پھر زندہ نظر آنا ضروری ہے

نئی عمروں کی خود مختاریوں کو کون سمجھائےکہاں سے بچ کے چلنا ہے کہاں جانا ضروری ہے

تھکے ہارے پرندے جب بسیرے کے لیے لوٹیںسلیقہ مند شاخوں کا لچک جانا ضروری ہے

بہت بے باک آنکھوں میں تعلق ٹک نہیں پاتامحبت میں کشش رکھنے کو شرمانا ضروری ہے

سلیقہ ہی نہیں شاید اسے محسوس کرنے کاجو کہتا ہے خدا ہے تو نظر آنا ضروری ہے

مرے ہونٹوں پہ اپنی پیاس رکھ دو اور پھر سوچوکہ اس کے بعد بھی دنیا میں کچھ پانا ضروری ہے

— وسیم بریلوی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں