5 اشعار

نہ جانے کیوں مجھے اس سے ہی خوف لگتا ہے

Na jaane kyuun mujhe us se hi khauf lagta hai

نہ جانے کیوں مجھے اس سے ہی خوف لگتا ہے

«نہ جانے کیوں مجھے اس سے ہی خوف لگتا ہے» وسیم بریلوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 46 سیکنڈ ہے۔

نہ جانے کیوں مجھے اس سے ہی خوف لگتا ہےمرے لئے جو زمانے کو چھوڑ آیا ہے

اندھیری شب کے حوالوں میں اس کو رکھا ہےجو سارے شہر کی نیندیں اڑا کے سویا ہے

رفاقتوں کے سفر میں تو بے یقینی تھییہ فاصلہ ہے جو رشتہ بنائے رکھتا ہے

وہ خواب تھے جنہیں ہم مل کے دیکھ سکتے تھےیہ بار زیست ہے تنہا اٹھانا پڑتا ہے

ہمیں کتابوں میں کیا ڈھونڈنے چلے ہو وسیمؔجو ہم کو پڑھ نہیں پائے انہیں نے لکھا ہے

— وسیم بریلوی