4 اشعار

تو سمجھتا ہے کہ رشتوں کی دہائی دیں گے

Tu samajhta hai ke rishton ki duhai denge

تو سمجھتا ہے کہ رشتوں کی دہائی دیں گے

«تو سمجھتا ہے کہ رشتوں کی دہائی دیں گے» وسیم بریلوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 31 سیکنڈ ہے۔

تو سمجھتا ہے کہ رشتوں کی دہائی دیں گےہم تو وہ ہیں ترے چہرے سے دکھائی دیں گے

ہم کو محسوس کیا جائے ہے خوشبو کی طرحہم کوئی شور نہیں ہیں جو سنائی دیں گے

فیصلہ لکھا ہوا رکھا ہے پہلے سے خلافآپ کیا صاحب عدالت میں صفائی دیں گے

پچھلی صف میں ہی سہی ہے تو اسی محفل میںآپ دیکھیں گے تو ہم کیوں نہ دکھائی دیں گے

— وسیم بریلوی