5 اشعار

اداسیوں میں بھی رستے نکال لیتا ہے

Udasiyon mein bhi raste nikal leta hai

اداسیوں میں بھی رستے نکال لیتا ہے

«اداسیوں میں بھی رستے نکال لیتا ہے» وسیم بریلوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 37 سیکنڈ ہے۔

اداسیوں میں بھی رستے نکال لیتا ہےعجیب دل ہے گروں تو سنبھال لیتا ہے

یہ کیسا شخص ہے کتنی ہی اچھی بات کہوکوئی برائی کا پہلو نکال لیتا ہے

ڈھلے تو ہوتی ہے کچھ اور احتیاط کی عمرکہ بہتے بہتے یہ دریا اچھال لیتا ہے

بڑے بڑوں کی طرح داریاں نہیں چلتیںعروج تیری خبر جب زوال لیتا ہے

جب اس کے جام میں اک بوند تک نہیں ہوتیوہ میری پیاس کو پھر بھی سنبھال لیتا ہے

— وسیم بریلوی