5 اشعار

اسے سمجھنے کا کوئی تو راستہ نکلے

Use samajhne ka koi to rasta nikle

اسے سمجھنے کا کوئی تو راستہ نکلے

«اسے سمجھنے کا کوئی تو راستہ نکلے» وسیم بریلوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 44 سیکنڈ ہے۔

اسے سمجھنے کا کوئی تو راستہ نکلےمیں چاہتا بھی یہی تھا وہ بے وفا نکلے

کتاب ماضی کے اوراق الٹ کے دیکھ ذرانہ جانے کون سا صفحہ مڑا ہوا نکلے

میں تجھ سے ملتا تو تفصیل میں نہیں جاتامری طرف سے ترے دل میں جانے کیا نکلے

جو دیکھنے میں بہت ہی قریب لگتا ہےاسی کے بارے میں سوچو تو فاصلہ نکلے

تمام شہر کی آنکھوں میں سرخ شعلے ہیںوسیمؔ گھر سے اب ایسے میں کوئی کیا نکلے

— وسیم بریلوی