6 اشعار

وہ میرے گھر نہیں آتا میں اس کے گھر نہیں جاتا

Woh mere ghar nahin aata main us ke ghar nahin jaata

وہ میرے گھر نہیں آتا میں اس کے گھر نہیں جاتا

«وہ میرے گھر نہیں آتا میں اس کے گھر نہیں جاتا» وسیم بریلوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 57 سیکنڈ ہے۔

وہ میرے گھر نہیں آتا میں اس کے گھر نہیں جاتامگر ان احتیاطوں سے تعلق مر نہیں جاتا

برے اچھے ہوں جیسے بھی ہوں سب رشتے یہیں کے ہیںکسی کو ساتھ دنیا سے کوئی لے کر نہیں جاتا

گھروں کی تربیت کیا آ گئی ٹی وی کے ہاتھوں میںکوئی بچہ اب اپنے باپ کے اوپر نہیں جاتا

کھلے تھے شہر میں سو در مگر اک حد کے اندر ہیکہاں جاتا اگر میں لوٹ کے پھر گھر نہیں جاتا

محبت کے یہ آنسو ہیں انہیں آنکھوں میں رہنے دوشریفوں کے گھروں کا مسئلہ باہر نہیں جاتا

وسیمؔ اس سے کہو دنیا بہت محدود ہے میریکسی در کا جو ہو جائے وہ پھر در در نہیں جاتا

— وسیم بریلوی