7 اشعار

یہ ہے تو سب کے لیے ہو یہ ضد ہماری ہے

Yeh hai to sab ke liye ho yeh zid hamari hai

یہ ہے تو سب کے لیے ہو یہ ضد ہماری ہے

«یہ ہے تو سب کے لیے ہو یہ ضد ہماری ہے» وسیم بریلوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 5 سیکنڈ ہے۔

یہ ہے تو سب کے لیے ہو یہ ضد ہماری ہےاس ایک بات پہ دنیا سے جنگ جاری ہے

اڑان والو اڑانوں پہ وقت بھاری ہےپروں کی اب کے نہیں حوصلوں کی باری ہے

میں قطرہ ہو کے بھی طوفاں سے جنگ لیتا ہوںمجھے بچانا سمندر کی ذمہ داری ہے

اسی سے جلتے ہیں صحرائے آرزو میں چراغیہ تشنگی تو مجھے زندگی سے پیاری ہے

کوئی بتائے یہ اس کے غرور بے جا کووہ جنگ میں نے لڑی ہی نہیں جو ہاری ہے

ہر ایک سانس پہ پہرا ہے بے یقینی کایہ زندگی تو نہیں موت کی سواری ہے

دعا کرو کہ سلامت رہے مری ہمتیہ اک چراغ کئی آندھیوں پہ بھاری ہے

— وسیم بریلوی