6 اشعار

ذرا سا قطرہ کہیں آج اگر ابھرتا ہے

Zara sa qatra kahin aaj agar ubharta hai

ذرا سا قطرہ کہیں آج اگر ابھرتا ہے

«ذرا سا قطرہ کہیں آج اگر ابھرتا ہے» وسیم بریلوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 44 سیکنڈ ہے۔

ذرا سا قطرہ کہیں آج اگر ابھرتا ہےسمندروں ہی کے لہجے میں بات کرتا ہے

کھلی چھتوں کے دیئے کب کے بجھ گئے ہوتےکوئی تو ہے جو ہواؤں کے پر کترتا ہے

شرافتوں کی یہاں کوئی اہمیت ہی نہیںکسی کا کچھ نہ بگاڑو تو کون ڈرتا ہے

یہ دیکھنا ہے کہ صحرا بھی ہے سمندر بھیوہ میری تشنہ لبی کس کے نام کرتا ہے

تم آ گئے ہو، تو کچھ چاندنی سی باتیں ہوںزمیں پہ چاند کہاں روز روز اترتا ہے

زمیں کی کیسی وکالت ہو پھر نہیں چلتیجب آسماں سے کوئی فیصلہ اترتا ہے

— وسیم بریلوی